حدیث نمبر٧
اور اسے ذکر کیا علامہ ابن ترکمانی نے [الجوہر النقی : 2/32] اور (امام دار قطنی نے اپنی السنن) دار قطنی [1/284 ، رقم : 2] میں حضرت عائشہؓ سے اسی کے مثل الفاظ کے ساتھ
دلیل نمبر ٤
احناف کی وہ روایت ہے جو حضرت انس رضی الله عنہ سے مروی ہے اور جس کو ابن حزم نے نقل کیا ہے، حضرت انس نے فرمایا۔
تین چیزیں اخلاق نبوت میں سے ہیں، افطار میں جلدی کرنا، سحری میں تاخیر کرنا اور داہنے ہاتھ کو بائیں کے اوپرزیر ناف رکھنا، (تحفہ)
مولانا مبارکپوری نے اس حدیث کو بھی رد کر دیا، وہ فرماتے ہیں کہ ہمیں اس کی سند کا پتہ نہیں، اس لئے یہ قابل احتجاج نہیں ہے۔
یعنی ان غیر مقلدین کی زور و زبردستی کا اندازہ لگائیے کہ جب تک بذات خود کسی حدیث کی سند کا ان کو پتہ نہیں لگے گا وہ کسی پر اعتماد کر کے اس کو ماننے والے نہیں ہیں، جی ہاں غیر مقلدیت اسی کا نام ہے۔
اگر میں تفصیل میں جاں تو ابھی مصنف ابن ابھی شیبہ، دارقطنی، مسند احمد و غیرہ سے متعدد آثار اس بارے میں نقل کر سکتا ہوں، مگر ایک انصاف پسند کے لئے اتنا ہی کافی ہے اور اس سے نماز مین زیر ناف ہاتھ باندھنے کی مسنونیت کا صاف پتہ چلتا ہے۔
حدیث نمبر ٨
اور اسی طرح ایک صحیح روایت حضرت علی سے بھی مروی ہے:
حضرت علیؓ نے فرمایا: تین چیزیں انبیاء (علیھم السلام) کی عادات میں سے ہیں: افطار جلدی کرنا، سحری دیر سے کرنا اور (نماز میں) ناف کے نیچے ہاتھ باندھنا.
[مسند زيد (سنة الوفاة:٢٤١ھ) » كِتَابُ الصِّيَامِ » بَابُ الإِفْطَارِ، رقم الحديث: ٢٣٤]
اوپر کی گفتگو سے اندازہ لگایا کہ غیر مقلدین کے علماء جو مذہب اختیار کرتے ہیں اگرچہ وہ "شاذ" ہو اور امت میں اس کا قائل کوئی بھی نہ ہو، اس کے خلاف ایک سننے کو تیار نہیں ہوتے اور صحیح حدیث کو پوری قوت خرچ کر کے ضعیف قرار دیدیتے ہیں مگر جب اپنی باری ہوتی ہے تو ضعیف حدیث بھی صحیح سند والی ہو جاتی ہے۔
آئیے اس کا آپ کو ایک نمونہ دکھلاں، اسی مسئلہ میں غیر مقلدین علماء کا استدلال اس حدیث سے بھی ہے۔
مسند احمد میں ہے کہ قبیصہ اپنے والد ہ حلب طائی سے نقل کرتے ہیں کہ میں نے رسول اکرم ﷺ کو دیکھا کہ آپ نماز میں داہنے رخ اور بائیں رخ دونوں طرف نمازکے بعد منہ پھیرتے تھے اور اس کواپنے سینہ پر رکھتے تھے، مولانا عبدالرحمن مبارکپوری اس کو نقل کر کے فرماتے ہیں ورواة ھذا الحدیث کلھم ثقات و اسنادہ متصل یعنی اس حدیث کے تمام راوی ثقہ ہیں اور اس کی سند متصل ہے، لیکن کیا حقیقت یہی ہے؟ تو سنئے کہ:
اس کا ایک راوی سماک ہے، اس کا حافظہ آخر میں خراب ہو گیا تھا، امام ذہبی فرماتے ہیں کہ امام احمد کا کہنا تھا کہ سماک مضطرب راوی ہے، شیبہ نے اس کو ضعیف قرار دیا ہی۔ ابن عمار کہتے ہیں کہ یہ غلطی کیا کرتا تھا، دامام عچلی کہتے ہیں کہ وہ بسا اوقات منقطع حدیث کو متصل کر دیتا تھا، امام ثوری اس کو ضعیف قرار دیتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ اس کی روایت میں اضطراب ہوتا ہے اور وہ پختہ کار محدثین میں سے نہیں تھا، اور صالح بھی اس کو ضعیف قرار دیتے ہیں، ابن خداش کہتے ہیں کہ اس میں کمزوری ہے۔
یہ ساری باتیں خود مبارکپوری صاحب نے لکھی ہیں اس کے باوجود وہ بڑے دھڑلے سے کہتے ہیں کہ اس کی سند کے تمام راوی ثقہ ہیں۔
اب سنئے کہ قبیصہ کی جو صحیح روایت ہے اس کو امام ترمذی نے ذکر فرمایا ہے اور اس میں ہاتھ کہاں رکھتے تھے اس کا کوئی ذکر ہی نہیں ہے۔
اور پھر غور کرنے کی بات ہے کہ اس حدیث میں راوی نماز ختم کرنے کے بعد کی حالت بیان کرتا ہے کہ دائیں بائیں رخ پھیرنے کے بعد آپ ﷺ اپنا ایک ہاتھ سینہ پر رکھتے تھے، اس میں یہ بھی تصریح نہیں ہے کہ کون سا ہاتھ رکھتے تھے ، بہر حال اس حدیث سے اس بات کی مشروعیت معلوم ہوتی ہے(اگر اسے قابل استدلال قرار دیا جائے تو) کہ نماز ختم کرنے کے بعد اپنا ایک ہاتھ سینہ پر رکھنا چاہئے۔
غیر مقلدین کا عمل تو اس حدیث کی روشنی میں یہ ہونا چاہئے کہ وہ نماز ختم ہونے پر اپنا ایک ہاتھ سینہ پر رکھیں ، مگر اس حدیث سے غیر مقلدین حالت قیام میں اور نماز کی حالت میں سینہ پر دونوں ہاتھوں کے باندھنے کی مشروعیت کو ثابت کرتے ہیں جس کا حدیث کے الفاظ میں کہیں دور دور تذکرہ نہیں ہے، حدیث کے الفاظ یہ ہیں آپ بھی دیکھ لیں اور ہر غیر مقلد دیکھ لے۔
قال رایت رسول الله ﷺ ینصرف عن یمینہ وعن یسارہ ورایت یضع ھذہ علی صدرہ۔
یضع ھذہ علی صدرہ (میں نے دیکھا کہ آپ ﷺ دائیں بائیں رخ پھیرنے کے بعد اس کو اپنے سینہ پر رکھتے تھے) کا تعلق نماز ختم ہونے کے بعد کی حالت سے ہے کہ سلام پھیرنے کے بعد آپ کا ایک عمل یہ بھی تھا کہ کوئی ہاتھ آپ آپنے سینہ پر رکھتے تھے۔
لیکن اس حدیث کو غیر مقلدین محدثین علماء بھی سینہ پر دونوں ہاتھ رکھنے کی اپنی دلیل بناتے ہیں آپ اندازہ لگا ئے کہ جب آدمی تقلید کا راستہ چھوڑ اکر اپنی من مانی کرتا ہے تو وہ کیسی بے سر و پیر کی بات کرتا ہے، ایک اہم بات اور بھی ذہن آپ نشین کر لیں کہ اگر بالفرض و المحال یہ تسلیم بھی کر لیا جائے کہ سینہ پر ہاتھ باندھنے کی بات اگر کسی صحیح حدیث میں ہو بھی تو اس کا سنت ہونا ضروری نہیں ہے، اس لئے کہ سنت وہ عمل ہوتا ہے جس پر آنحضور ﷺ کا عمومی عمل ثابت ہو اور صحابہ کرام نے بھی اس کو اپنا معمول بنایا ہو، اور یہ بات کسی طرح ثابت نہیں ہے کہ سینہ پر ہاتھ باندھ کر نماز پڑھنا آنحضور ﷺ کا اکثری یا دائمی معمول تھا، اور یہی وجہ ہے کہ غیر مقلدین کی اس مسئلہ میں نقل کردہ کسی حدیث میں یہ نہیں ہے کہ کسی صحابی نے یہ کہا ہو کہ سنت یہ ہے کہ دونوں ہاتھ سینہ پر رکھے جائیں جب کہ سینہ کے نیچے ہاتھ باندھنے کے بارے میں حضرت علی خلیفہ راشد کا صاف ارشاد ہے کہ سنت یہ ہے کہ ہاتھ ناف کے نیچے باندھا جائے اور یہی وجہ ہے کہ صحابہ و تابعین میں ہاتھ زیر ناف باندھنے کا معمول تو رہا ہے مگر سینہ پر ہاتھ باندھنے کاکسی ایک صحابی کا بھی عمل منقول نہیں ہے۔
یقین جانئے کہ اگرنماز میں سینہ پر ہاتھ رکھنا بھی اسلاف کا معمول ہوتا تو اس بارے میں کوئی صحیح حدیث ہوتی اور یہ سنت ہوتا تو امام ترمذی اس کو ہرگز نظر انداز نہ کرتے، اور امام ابن قیم اس کو مکروہ نہ قرار دیتے، امام ابن قیم کا ارشاد ملاحظہ ہو، فرماتے ہیں: "دیکوہ ان یجعلاھا علی الصدر" یعنی سینہ پر ہاتھ رکھنا مکروہ ہے، اور حضرت علی کا یہ ارشاد کہ سنت یہی ہے کہ ناف کے نیچے ہاتھ باندھا جائے جس کو عبدالرحمن مبارکپوری صاحب نے از راہ تعصب ضعیف قرار دیا ہے۔ اس کے بارے میں امام ابن قیم فرماتے ہیں۔
صحیح حضرت علی کی بات ہے....والصحیح حدیث علی یعنی صحیح حدیث حضرت علی ہی والی ہے۔(بدائع الفوائد : ص۱۹ ج۱)
دلیل نمبر ٥
نماز میں زیر ناف ہاتھ باندھنے کا جن کا مذہب ہے ان کی صریح صحیح دلیل یہ ہے جو مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے
حدیث نمبر ٩
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَضَعَ يَمِينَهُ عَلَى شِمَالِهِ فِي الصَّلَاةِ تَحْتَ السُّرَّةِ"۔
[مصنف ابن أبي شيبة » كتاب الصلاة » أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلاةِ » وَضْعُ الْيَمِينِ عَلَى الشِّمَالِ, رقم الحديث: 3959]
حضرت وائلؓ فرماتے ہیں : میں نے رسول اکرم ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ نماز میں ناف کے نیچے ہاتھ باندھتے تھے۔
یہ روایت بالکل صحیح سند سے ہے، مگر غیر مقلدین علماء کو اس بارے میں بڑی مہارت حاصل ہے کہ وہ صحیح سند والی روایت کو بھی غلط قرار دے دیتے ہیں، چنانچہ مولانا عبدالرحمن مبارک پوری غیر مقلد اس صحیح سند والی روایت کو دیکھ کر اوپر نیچے ہونے لگے اور فرماتے ہیں:
میں کہتا ہوں کہ اس حدیث کی سند اگرچہ عمدہ ہے مگر تحت السرہ یعنی ناف کے نیچے والا کلمہ ثابت نہیں ہے۔ لکن فی ثبوت لفظ تحت السرة فی ھذا الحدیث نظر اقویا۔(ص ۴۱۲ )
اور پھر اس ثابت شدہ لفظ کو غیر ثابت کرنے کے لئے وہ سب کچھ کر کے رکھ دیا جس سے امانت و دیانت اور اصول پناہ مانگتے ہیں، اب ان کی اس تفصیل میں کون پڑے اور جان کھپائے، ہم تو ان غیر مقلدوں سے صرف یہ کہیں کہ اگر آپ کے یہاں ثابت نہیں ہے تو اس سے کیا فرق پڑتا ہے، صحابہ کرام اور تابعین عظام اور ائمہ فقہ و حدیث کا عمل یہ بتلاتا ہے کہ یہ لفظ ثابت ہے چاہے مصنف کے بقیہ اور نسخوں میں یہ لفظ ہو یا نہ ہو۔
قلمی نسخہعلامہ شیخ ہاشم السندی رح نے اپنے رسالہ میں بیان کیا کہ
”میں نے یہ ذیادتی ( تحت السرۃ) 3 نسخوں میں پائی ہے۔ ایک وہ نسخہ جس کو شیخ قاسم محدث دیار مصریہ میں نقل کیا اور دوسرا وہ نسخہ جس کو شیخ اکرم النصر پوری نے نقل کیا اور تیسرا وہ نسخہ جس کو شیخ عبدالقادر مفتی مکہ معظمہ نے نقل کیا ہےٌ
( ترصیع الدرۃ)
اسی بات کو ترصیع الدرۃ کے مقدمہ میں نعیم اشرف صاحب سے نقل کیا گیا ہے اور اس کا مقدمہ شیخ عبدالفتاح ابو غدہ نے بیان کیا ہے اور کتاب میں ترصیع الدرۃ کے پرانے مخطوطے کا وہ صفحہ بھی پیش کیا جہاں شیخ ہاشم السندی نے اس زیادتی کی تصدیق کی۔
نسخہ غیر مقلد شمس الحق عظیمی۔ کیومکہ ان کا مصنّف کا نسخہ، جس کو شیخ نظامانی نے لکھا ہے، اس میں بھی تحت السرہ کے الفاظ موجود ہے۔