Friday, 19 January 2024

Nimaz Main Naaf K Neechay Haath Bandhna Chahiye-Quran-o-Sunnat Ki Roshi Main

 نماز میں ناف کے نیچے ہاتھ باندھنا چاہیئے قُرآن و سُنّت کی روشنی میں
غیر مقلدین(نام نہاد اہل حدیث) کا مزاج دینی مسائل میں آوارہ قسم کا ہے، ہم نے ان کی کتابیں پڑھی ہیں ہمیں ان کے مزاج  میں کہیں ٹھہراﺅ نظر نہیں آتا، ان کو اپنے مذہب کے خلاف ہر چیز سنت کے خلاف ہی نظر آتی ہے اور ساری احادیث ضعیف دکھلائی دیتی ہیں، صحابہ کرام کا عمل حجت نہیں ہوتا ،خلفائے راشدین کی باتیں قابل رد ہوتی ہیں ،جمہور کیا کہتے ہیں اور ان کا عمل کیا ہے اس کی ان کو پرواہ نہیں ہوتی ہے حدیث میں ثقہ کی زیادتی منظور نہیں ہوتی انہیں احادیث میں اضطراب نظر آتا ہے۔
لیکن اگر مسئلہ اپنا ہو تو حدیث کا ضعیف ہونا بھی قبول ہوتا ہے ،صحابہ کے قول و عمل سے استدلال بھی جائز ہو جاتا ہے ،خلفائے راشدین کا عمل بھی بھانے لگتا ہے ثقہ کی زیادتی بھی محدثین کا مذہب قرار پاتی ہے ،حدیث میں جو اضطراب ہوتا ہے 
وہ بھی انکی آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچاتا ہے ۔

غیر مقلدین کے مستند شدہ محدث علامہ البانی بھی سینہ پہ ہاتھ باندھنے کی روایت کو مومل کی وجہ سے ضعیف کہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ مومل سیئ الحفظ ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ بتحقیق البانی جلد 1 صفحہ 243]                                                                                 

غیر مقلد عالم عبدالمنان نور پوری کا اعتراف کہ سینہ پہ ہاتھ باندھنے کی روایت کا راوی مومل بن اسماعیل ضعیف ہے اور علامہ البانی بھی اس کی سند کو اس لئے ضعیف کہتے ہیں کہ مومل بن اسماعیل سئی حفظ ہے۔[مکالمات نورپوری، صفحہ 528


علامہ ابن قیم کہتے ہیں کہ مومل ضعیف ہے۔( اعلام الموقعین، جلد 4 صفحہ 285)

مشہور غیر مقلد عالم عبدالرحمان مبارکپوری کہتے ہیں کہ " میں تسلیم کرتا ہوں کہ مومل بن اسماعیل ضعیف ہے اور بپیقی کی سینہ پہ ہاتھ باندھنے کی یہ روایت ضعیف ہے" ( ابکار المنن، صفحہ 359)

ابونصرالمروزی کہتے ہیں: المؤمل إذا انفرد بحديث وجب ان يتوقف ويتثبت فيه لانه كان سيئ الحفظ كثير الغلط
(تہذیب التہذیب جلد 10 صفحہ 381، تعظیم قدر الصلوہ از امام مروزی، صفحہ 574)

دارقطنی کہتے ہیں: : ثقة كثير الخطأ۔اوران سے ایک دوسری روایت میں صدوق کثیر الخطاء کے الفاظ بھی منقول ہیں۔ اس کے علاوہ علل میں دارقطنی کہتے ہیں۔
وَرَوَاهُ مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ يَحْيَى الْقَطَّانِ فَوَهِمَ عَلَيْهِ فِي إِسْنَادِهِ، وَهْمًا قَبِيحًا(علل الدارقطنی9/314)

امام بخاری فرماتے ہیں منکرالحدیث(میزان الاعتدال4/284)

یہ امام ابو حنیفہ رح پہ جرح کے بارے میں غیر مقلدین کی پیش کردہ ایک مشہور روایت کا حال ہے جس سے غیر مقلدین ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ معاذ اللہ امام ابو حنیفہ رح شیطان تھے۔ 
اللہ سب کو ہدایت دے اور تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنھم ، اہلبیت رضی اللہ عنھم اور ائمہ کرام رحمھم اللہ عنھم کا ادب اور احترام کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

نماز میں ہاتھ کہاں باندھنا چاہئے، اس کا فیصلہ امام ترمذیؒ نے فرمایا ہے ان کا کہنا یہ ہے کہ اس بارے میں صحابہ کرام و تابعین سے صرف دو طرح کی بات منقول ہے، ایک ناف کے نیچے اور دوسری ناف کے اوپر سینہ پر ہاتھ باندھنے کا ذکر انہوں نے کیا ہی نہیں ہے اس سے معلوم ہوا کہ صحابہ کرام و تابعین کا امام ترمذی کی نگاہ میں ان دو عمل کے علاوہ تیسرا کوئی عمل تھا ہی 
نہیں۔
دلیل نمبر ١
سنیئے امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ کی بات انہیں کے الفاظ ہیں۔
حدیث نمبر ١
 وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّابِعِينَ ، وَمَنْ بَعْدَهُمْ يَرَوْنَ أَنْ يَضَعَ الرَّجُلُ يَمِينَهُ عَلَى شِمَالِهِ فِي الصَّلَاةِ ، وَرَأَى بَعْضُهُمْ أَنْ يَضَعَهُمَا فَوْقَ السُّرَّةِ ، وَرَأَى بَعْضُهُمْ أَنْ يَضَعَهُمَا تَحْتَ السُّرَّةِ ، وَكُلُّ ذَلِكَ وَاسِعٌ عِنْدَهُمْ
[جامع الترمذي » كِتَاب الصَّلَاةِ » أَبْوَابُ الْأَذَانِ » بَاب مَا جَاءَ فِي وَضْعِ الْيَمِينِ عَلَى الشِّمَالِ رقم الحديث: 234]
:ترجمہ 
اسی پر عمل ہے صحابہ و تابعین اور اہل علم کا کہ دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھا جاۓ، اور ان میں بعض کی راۓ (مذھب) ہے کہ ہاتھ کو ناف کے اوپر باندھے اور بعض کی راۓ (مذھب) ہے کہ ناف کے نیچے باندھے اور یہ سب وسعت (جائز) ہے ان کے نزدیک
[جامع ترمذی: جلد اول: حدیث نمبر 243 , نماز کا بیان : نماز میں دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھا جائے]
امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ جیسا وسیع النظر محدث کا یہ فیصلہ آپ کے سامنے ہے ، صرف یہی ایک بات اطمینان پیدا کرنے کے لئے کافی ہے کہ احناف کا مسلک وہ ہے جس پر صحابہ و تابعین اور بعد کے ائمہ محدثین کا عمل رہا ہے ،انہوں نے سینہ پر ہاتھ باندھنے والی بات کوئی لائق ذکر بھی نہیں سمجھا ،اس سے معلوم ہوا کہ صحابہ کرام اور تابعین اور محدثین میں سینہ پر ہاتھ باندھ کر نماز پڑھنے کا کبھی معمول ہی نہیں رہا ہے۔

اب ہر سمجھدار آدمی فیصلہ کر سکتا ہے کہ احناف کا عمل حدیث کے خلاف ہے کہ حدیث کے موافق، اگر حدیث کے خلاف ہے تو اس کا الزام صرف احناف پر ہی نہیں آتا بلکہ یہ الزام ان تمام صحابہ تمام کرام اور تابعین اور محدثین پر آتا ہے جو نماز میں ناف کے نیچے ہاتھ باندھتے تھے۔
ذرا اس بارے میں ائمہ اربعہ کے یہاں جو بات منقول ہے اس پر بھی ایک نگاہ ڈال لیں ۔
امام مالک سے اس بارے میں تین روایت ہے
١) نمازی ہاتھ چھوڑ کر نماز پڑھے گا
٢) سینہ کے نیچے ہاتھ باندھے گا اور ناف کے اوپر
٣) اسے اختیار ہے ہاتھ باندھ کر نماز پڑھے یا ہاتھ چھوڑ کر۔
یعنی امام مالک کے نزدیک سینہ پر ہاتھ باندھنے کا مذکور ہی نہیں
امام شافعی سے بھی تین رو۱یات ہیں:
١) سینہ کے نیچے اور ناف کے اوپر ہاتھ باندھے گا، اور یہی روایت مشہور ہے اور اسی پر ان کے یہاں عمل ہے اور یہی روایت امام شافعی کی کتاب الام اور دوسری کتابوں میں مذکور ہے۔
٢) دوسرا قول یہ ہے کہ سینہ پر ہاتھ باندھے گا مگر یہ عمل بعض ہی کتابوں میں مذکور ہے شوافع کی کتابوں میں مشہور پہلی روایت ہے۔
٣) اور امام شافعی کا تیسرا قول یہ ہے کہ ناف کے نیچے باندھے گا۔
 [شرح النووي على مسلم] [المجموع شرح المهذب » كتاب الصلاة » باب صفة الصلاة » وضع اليمين على اليسار في الصلاة]
[إعلام الموقعين عن رب العالمين » أمثلة لمن أبطل السنن بظاهر من القرآن » ترك السنة الصحيحة في وضع اليدين في الصلاة]

امام احمد رحمتہ الله علیہ سے بھی تین طرح کی روایت ہے
١) ایک روایت یہ ہے کہ ناف کی نیچے باندھے گا
[المبدع في شرح المقنع » كتاب الصلاة » باب صفة الصلاة » وضع اليمنى على اليسرى تحت السرة]
[المغني لابن قدامة » كتاب الصلاة » باب صفة الصلاة » مسألة وضع اليمين على الشمال تحت السرة في الصلاة]
٢) دوسری روایت ہے کہ سینہ کے نیچے اور ناف کے اوپر باندھے گا۔
٣) اور تیسری روایت ہے کہ نمازی کو اختیار ہے کہ ناف کے نیچے باندھے یا ناف کے اوپر۔
مگر ناف کے نیچے والی روایت ہی مشہور ہے اور اسی پر عام طور پر حنبلیوں کا عمل ہے۔
 (دیکھو: تحفہ لاحوذی: ص۳ ۱ ۲۔۴ ۱ ۲ ، ج۲)
آپ غور فرمائیں کہ ائمہ اربعہ میں دو امام ایسے ہیں جن کا مذہب ناف کے نیچے باندھنے کا بھی ہے اور رہے امام ابو حنیفہ رحمتہ الله علیہ تو ان کا مذہب صرف ایک طرح کا نقل کیا گیا ہے کہ نماز میں ناف کے نیچے ہی ہاتھ باندھنا افضل اور اولیٰ ہے، بلکہ امام احمد بن حنبل کا مشہور مذہب تو امام ابو حنیفہ رحمتہ الله علیہ کے مطابق ہی ہے، سینہ پر ہاتھ باندھنے کی بات صرف امام شافعی کے ایک قول میں ہے اور سینہ کے اوپر ہاتھ باندھنا تو سلفیوں کی نئی ایجاد ہے۔
اس سے معلوم ہوا کہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمتہ الله علیہ کا مسلک ہر طرح سے پختہ ہے جس کی تائید میں اسلاف کا عمل ہے، اب رہا یہ کہ زیر ناف ہاتھ باندھنے کی کوئی صریح حدیث بھی ہے، تو اس بارے میں عرض یہ ہے یہ زعم بالکل باطل ہے کہ اسلاف کرام ائمہ عظام اور صحابہ و تابعین کا جو معمول رہا ہے یہ معمول ان کا خود ساختہ ہو گا اور اس پر سنت سے کوئی دلیل نہ ہو گی، دلیل ہو گی اور یقینا ہو گی خواہ ہمیں وہ ضعیف نظر آئے یا قوی۔
امام ابن منذر رحمۃ اللہ تعالی علیہ، امام مروزی رحمہ اللہ سے امام اسحاق بن راہویہ کے زیرِ ناف ہاتھ باندھنے کے حوالے سے ان کا موقف بیان کرتے ہیں کہ امام اسحاق بن راہویہ رحمہ اللہ تعالی نے فرمایا:
" تحت السّرّة أقوى في الحديث، وأقرب إلى التواضع. "
ترجمہ:
" نماز میں زیرِ ناف ہاتھ باندھنا احادیث کی رو سے قوی ترین موقف ہے اور یہ عاجزی و انکساری کے زیادہ قریب ہے۔ "
[الأوسط في السنن والإجماع والاختلاف لابن المنذر، ج. ٣، ص. ٩٤]
[مسائل الإمام أحمد بن حنبل وإسحاق ابن راهويه رواية إسحاق بن منصور الكوسج المروزي، ج. ١، ص. ١٣٩]

نماز میں زیرِ ناف ہاتھ باندھنے کا مسئلہ
دلیل نمبر ٢
حدیث نمبر ٢
حضرت علیؓ سے روایت ہے : رکھنا دائیں ہتھیلی کو بائیں ہتھیلی پر نماز میں ناف کے نیچے سنّت میں سے ہے .
حکام القرآن، للطحاوی رح: ٢٣٩-٣٢١ھ : تفسیر- فصل لربک وانحر، ١/١٨٦] 

حدیث نمبر ٣
نماز میں زیر ناف ہاتھ باندھنا
ذکر کیا الاثرم نے، حدیث بیان کی ہمیں ابو الولید الطیالسی نے ، کہا حدیث بیان کی ہم سے حمد بن سلمہ نے، عاصم الجحدری سے، وہ عقبہ بن صھبان سے، انہوں نے سنا حضرت علیؓ کو فرماتے الله عز و جل کے فرمان : ((پس نماز پڑھ اپنے رب کے لئے اور قربانی کر))  (کے بارے) میں، فرمایا : (نماز میں) رکھنا دائیں ہتھیلی کو بائیں ہتھیلی پر ناف کے نیچے .
[التمهيد لابن عبد البر : ٨/١٦٤ ، سندہ صحیح]
الشواہد :
[احکام القرآن، للطحاوی رح (٢٣٩-٣٢١ھ) : تفسیر- فصل لربک وانحر، ١/١٨٦]

حدیث نمبر ۴

أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " مِنَ السُّنَّةِ وَضْعُ الْكَفِّ عَلَى الْكَفِّ فِي الصَّلَاةِ تَحْتَ السُّرَّةِ " .[سنن أبي داود » كِتَاب الصَّلَاةِ » أَبْوَابُ تَفْرِيعِ اسْتِفْتَاحِ الصَّلَاةِ » بَاب وَضْعِ الْيُمْنَى عَلَى الْيُسْرَى فِي الصَّلَاةِ ... رقم الحديث: 644]
ترجمہ : حضرت علیؓ سے روایت ہے، (کہ انہوں نے) فرمایا : " سنّت نماز (کی میں) سے رکھنا ہے ہاتھ کا ہاتھ پر نیچے ناف کے 

خلاصة حكم المحدث
سكت عنه
[وقد قال في رسالته لأهل مكة كل ما سكت عنه فهو صالح]
                          امام ابو داود نے کہا 
جس حدیث پر کہ میں اپنی کتاب میں سکوت (خاموشی اختیار) کروں (یعنی حدیث کے ضعیف ہونے کا حکم نہ لگاؤں) تو وہ احتجاج (حجت و دلیل ہونے) کی صلاحیت رکھتی ہے
[فتاویٰ علماۓ حدیث : ٧/٧٢]
[مصنف ابن أبي شيبة » كتاب الصلاة » أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلاةِ » وَضْعُ الْيَمِينِ عَلَى الشِّمَالِ, رقم الحديث: 3840]
الشواهد: تحفة الأحوذي: ١/٥١٢

م

 طرف الحديث

الصحابي

اسم الكتاب

أفق

العزو

المصنف

سنة الوفاة

1

من السنة في الصلاة وضع الأكف على الأكف تحت السرة

علي بن أبي طالب

مسند أحمد بن حنبل

853

---

أحمد بن حنبل

241

2

من السنة وضع الكف على الكف في الصلاة تحت السرة

علي بن أبي طالب

سنن أبي داود

644

---

أبو داود السجستاني

275

3

من السنة في الصلاة وضع الأكف على الأكف تحت السرة

علي بن أبي طالب

تهذيب الكمال للمزي

553

9:473

يوسف المزي

742

4

من سنة الصلاة وضع الأيدي تحت السرة

علي بن أبي طالب

الأوسط في السنن والإجماع والاختلاف لابن المنذر

1240

1290

محمد بن إبراهيم بن المنذر

318

5

من السنة أن يضع الرجل يده اليمنى على اليسرى تحت السرة في الصلاة

عبد الرحمن بن صخر

الأوسط في السنن والإجماع والاختلاف لابن المنذر

1241

1291

محمد بن إبراهيم بن المنذر

318

6

وضع اليمين على الشمال في الصلاة تحت السرة من السنة

علي بن أبي طالب

أحكام القرآن الكريم للطحاوي

255

327

الطحاوي

321

7

من السنة أن يضع الرجل يده اليمنى تحت السرة في الصلاة

عبد الرحمن بن صخر

أحكام القرآن الكريم للطحاوي

256

328

الطحاوي

321

8

وضع اليمين على الشمال تحت السرة

علي بن أبي طالب

سنن الدارقطني

959

1090

الدارقطني

385

9

السنة في الصلاة وضع الكف على الكف تحت السرة

علي بن أبي طالب

السنن الكبرى للبيهقي

2136

2:31

البيهقي

458

10

من سنة الصلاة وضع اليمين على الشمال تحت السرة

علي بن أبي طالب

السنن الكبرى للبيهقي

2137

2:31

البيهقي

458

11

من السنة في الصلاة وضع الأكف على الأكف تحت السرة

علي بن أبي طالب

التحقيق في مسائل الخلاف لابن الجوزي

453

481

أبو الفرج ابن الجوزي

597



ترجمہ :
حضرت علیؓ سے روایت ہے، (کہ انہوں نے) فرمایا : " بیشک سنّت نماز (کی میں) سے ہے رکھنا  دائیں ہتھیلی کو بائیں ہتھیلی پر نیچے ناف کے".
[سنن الدارقطني » كِتَابُ الصَّلاةِ » بَابٌ فِي أَخْذِ الشِّمَالِ بِالْيَمِينِ فِي الصَّلاةِ ... رقم الحديث: 1103 (1090)]
تخريج الحديث: مسند أحمد بن حنبل: 853 ، سنن أبي داود: 1 : 129 ، أحكام القرآن الكريم للطحاوي: 327 ، السنن الكبرى للبيهقي: 2 : 31 ، الأوسط في السنن والإجماع والاختلاف لابن المنذر: 1290 ، تهذيب الكمال للمزي: 940

اور جب صحابہ کرام کسی عمل کے بارے میں سنت کا لفظ استعمال کرتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ آنحضورﷺکا یہی معمول تھا اور آپ کا یہی فرمان تھا، مولانا عبدالرحمن مبارکپوری محدث طیبی سے نقل کرتے ہیں
اذا قال الصحابی من السنة کذا اوالسنة کذا فھو فی الحکم کقولہ قال رسول الله  ھذا مذھب الجمھور من المحدثین والفقھاءفجعل بعضھم موقوفا ولیس بشیئ۔
(تحفة الأحوذي : ص۰ ۴ ۲ ج۱)
یعنی جب صحابی یہ کہے کہ سنت سے یہ ہے یا یہ سنت ہے تو اس کا مطلب اور حکم اسی طرح کا ہے جیسے صحابی یہ کہے کہ آنحضورﷺ کا یہ ارشاد ہے (یعنی یہ بات آنحضور ہی سے ثابت ہو گی اور اس کا حکم حدیث مرفوع کا ہے) اور یہی عام طور پر فقہاءاور محدثین کا مذہب ہے، اور جس نے اس کو موقوف قرار دیا ہے وہ کوئی چیز نہیں ہے۔

چونکہ حضرت علی رضی الله عنہ کی یہ تعلیم اور فرمان غیر مقلدین کی گلے کی ہڈی بن رہا تھا۔ اس وجہ سے مولانا عبد الرحمن مبارکپوری نے اس کو بھی ضعیف قرار دینے کی پوری سعی کی ہے، مگر ہمارے نزدیک ان کی یہ سعی، سعی باطل ہے اس لئے کہ جب امام ترمذی کے بقول صحابہ کرام اور تابعین کی ایک جماعت کا اسی پر عمل رہا ہے تو ہمارے لئے ان کا عمل حجت ہے، 
اس لئے کہ ہمیں یقین ہے کہ ان کا عمل خلاف سنت نہیں تھا، چاہے غیر مقلدین مانیں یا نہ مانیں۔

دلیل نمبر ٣: احناف کی یہ روایت ہے جو ابو داود میں ہے اور حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کی ہے، حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ نے فرمایا۔

حدیث نمبر ٥
عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، قَالَ : قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : " أَخْذُ الْأَكُفِّ عَلَى الْأَكُفِّ فِي الصَّلَاةِ تَحْتَ السُّرَّةِ ".
[سنن أبي داود » كِتَاب الصَّلَاةِ » أَبْوَابُ تَفْرِيعِ اسْتِفْتَاحِ الصَّلَاةِ » بَاب وَضْعِ الْيُمْنَى عَلَى الْيُسْرَى فِي الصَّلَاةِ ... رقم الحديث: 646]
حضرت ابو وائل حضرت ابو ہریرہ سے مروی ہیں کہ نماز میں ہتھیلی کو ہتھیلی سے پکڑ کر ہاتھ کو باندھا جائے گا۔
(تحفة الأحوذي : ص۵ ۱ ۲)
مولانا عبدالرحمن مبارکپوری غیر مقلد کو حضرت ابوہریرہ کا یہ فرمان بھی گوارا نہیں ہوا، اور اس کو بھی ایک راوی کی وجہ سے ضعیف کہہ کر رد کر دیا۔
حدیث نمبر ٦
حضرت ابو ہریرہ رضی الله عنہ سے : سنّت یہی ہے کہ مرد رکھے دائیں ہتھیلی کو بائیں ہتھیلی پر ناف کے نیچے نماز میں.
اور اسی کو فرمایا امام سفیان ثوری، اور امام اسحاق نے.
اور فرمایا امام اسحاق نے :
(نماز میں ہاتھوں کا) ناف کے نیچے رکھنا سب سے زیادہ مضبوط ہے حدیث میں اور سب سے زیادہ قریب ہے عاجزی کرنے میں


تخريج الحديث

م

طرف الحديث

الصحابي

اسم الكتاب

أفق

العزو

المصنف

سنة الوفاة

1

من السنة أن يضع الرجل يده اليمنى على اليسرى تحت السرة في الصلاة

عبد الرحمن بن صخر

الأوسط في السنن والإجماع والاختلاف لابن المنذر

1241

1291

محمد بن إبراهيم بن المنذر

318

2

من السنة أن يضع الرجل يده اليمنى تحت السرة في الصلاة

عبد الرحمن بن صخر

أحكام القرآن الكريم للطحاوي

256

328

الطحاوي

321

                                                    حکام القرآن، للطحاوی رح: ٢٣٩-٣٢١ھ : تفسیر- فصل لربک وانحر، ١/١٨٦]
الشواہد: سنن الاثرم بحوالہ التمہید : ٨/١٦٤

حدیث نمبر ٦
عن أنس : من أخلاق الأنبياء: تعجيل الإفطار، وتأخير السحور، ووضعك يمينك على شمالك في الصلاة تحت السرة.
[مختصر خلافيات للبيهقي (سنة الوفاة:458ھ) : 2 / 34 ، كتاب الصلاة ، مسألة # 75 - والسنة أن يضع اليمنى على اليسرى تحت صدره فوق سرة....؛ المحلى بالآثار لابن حزم : 3/30 ؛ معجم الکبیر للطبرانی بحوالہ شرح سنن أبي داود للعيني : 3/356]
ترجمہ : حضرت انس فرماتے ہیں : انبیاء کرام کے اخلاق (عادات) میں سے ہے (کہ) روزہ (اول وقت میں) جلدی افطار کرنا ، اور (آخر وقت میں) دیر سے سحری کرنا ، اور نماز میں اپنے دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر ناف کے نیچے رکھنا


حدیث نمبر٧ 
اور اسے ذکر کیا علامہ ابن ترکمانی نے [الجوہر النقی : 2/32] اور (امام دار قطنی نے اپنی السنن) دار قطنی [1/284 ، رقم : 2] میں حضرت عائشہؓ سے اسی کے مثل الفاظ کے ساتھ 
دلیل نمبر ٤ 
احناف کی وہ روایت ہے جو حضرت انس رضی الله عنہ سے مروی ہے اور جس کو ابن حزم نے نقل کیا ہے، حضرت انس نے فرمایا۔
تین چیزیں اخلاق نبوت میں سے ہیں، افطار میں جلدی کرنا، سحری میں تاخیر کرنا اور داہنے ہاتھ کو بائیں کے اوپرزیر ناف رکھنا، (تحفہ)
مولانا مبارکپوری نے اس حدیث کو بھی رد کر دیا، وہ فرماتے ہیں کہ ہمیں اس کی سند کا پتہ نہیں، اس لئے یہ قابل احتجاج نہیں ہے۔
یعنی ان غیر مقلدین کی زور و زبردستی کا اندازہ لگائیے کہ جب تک بذات خود کسی حدیث کی سند کا ان کو پتہ نہیں لگے گا وہ کسی پر اعتماد کر کے اس کو ماننے والے نہیں ہیں، جی ہاں غیر مقلدیت اسی کا نام ہے۔
اگر میں تفصیل میں جاں تو ابھی مصنف ابن ابھی شیبہ، دارقطنی، مسند احمد و غیرہ سے متعدد آثار اس بارے میں نقل کر سکتا ہوں، مگر ایک انصاف پسند کے لئے اتنا ہی کافی ہے اور اس سے نماز مین زیر ناف ہاتھ باندھنے کی مسنونیت کا صاف پتہ چلتا ہے۔
حدیث نمبر ٨
اور اسی طرح ایک صحیح روایت حضرت علی سے بھی مروی ہے:
حضرت علیؓ نے فرمایا: تین چیزیں انبیاء (علیھم السلام) کی عادات میں سے ہیں: افطار جلدی کرنا، سحری دیر سے کرنا اور (نماز میں) ناف کے نیچے ہاتھ باندھنا.
[مسند زيد (سنة الوفاة:٢٤١ھ) » كِتَابُ الصِّيَامِ  » بَابُ الإِفْطَارِ، رقم الحديث: ٢٣٤]


 اوپر کی گفتگو سے اندازہ لگایا کہ غیر مقلدین کے علماء جو مذہب اختیار کرتے ہیں اگرچہ وہ "شاذ" ہو اور امت میں اس کا قائل کوئی بھی نہ ہو، اس کے خلاف ایک سننے کو تیار نہیں ہوتے اور صحیح حدیث کو پوری قوت خرچ کر کے ضعیف قرار دیدیتے ہیں مگر جب اپنی باری ہوتی ہے تو ضعیف حدیث بھی صحیح سند والی ہو جاتی ہے۔
آئیے اس کا آپ کو ایک نمونہ دکھلاں، اسی مسئلہ میں غیر مقلدین علماء کا استدلال اس حدیث سے بھی ہے۔

مسند احمد میں ہے کہ قبیصہ اپنے والد ہ حلب طائی سے نقل کرتے ہیں کہ میں نے رسول اکرم ﷺ کو دیکھا کہ آپ نماز میں داہنے رخ اور بائیں رخ دونوں طرف نمازکے بعد منہ پھیرتے تھے اور اس کواپنے سینہ پر رکھتے تھے، مولانا عبدالرحمن مبارکپوری اس کو نقل کر کے فرماتے ہیں ورواة ھذا الحدیث کلھم ثقات و اسنادہ متصل یعنی اس حدیث کے تمام راوی ثقہ ہیں اور اس کی سند متصل ہے، لیکن کیا حقیقت یہی ہے؟ تو سنئے کہ:

اس کا ایک راوی سماک ہے، اس کا حافظہ آخر میں خراب ہو گیا تھا، امام ذہبی فرماتے ہیں کہ امام احمد کا کہنا تھا کہ سماک مضطرب راوی ہے، شیبہ نے اس کو ضعیف قرار دیا ہی۔ ابن عمار کہتے ہیں کہ یہ غلطی کیا کرتا تھا، دامام عچلی کہتے ہیں کہ وہ بسا اوقات منقطع حدیث کو متصل کر دیتا تھا، امام ثوری اس کو ضعیف قرار دیتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ اس کی روایت میں اضطراب ہوتا ہے اور وہ پختہ کار محدثین میں سے نہیں تھا، اور صالح بھی اس کو ضعیف قرار دیتے ہیں، ابن خداش کہتے ہیں کہ اس میں کمزوری ہے۔

یہ ساری باتیں خود مبارکپوری صاحب نے لکھی ہیں اس کے باوجود وہ بڑے دھڑلے سے کہتے ہیں کہ اس کی سند کے تمام راوی ثقہ ہیں۔

اب سنئے کہ قبیصہ کی جو صحیح روایت ہے اس کو امام ترمذی نے ذکر فرمایا ہے اور اس میں ہاتھ کہاں رکھتے تھے اس کا کوئی ذکر ہی نہیں ہے۔

اور پھر غور کرنے کی بات ہے کہ اس حدیث میں راوی نماز ختم کرنے کے بعد کی حالت بیان کرتا ہے کہ دائیں بائیں رخ پھیرنے کے بعد آپ ﷺ اپنا ایک ہاتھ سینہ پر رکھتے تھے، اس میں یہ بھی تصریح نہیں ہے کہ کون سا ہاتھ رکھتے تھے ، بہر حال اس حدیث سے اس بات کی مشروعیت معلوم ہوتی ہے(اگر اسے قابل استدلال قرار دیا جائے تو) کہ نماز ختم کرنے کے بعد اپنا ایک ہاتھ سینہ پر رکھنا چاہئے۔

غیر مقلدین کا عمل تو اس حدیث کی روشنی میں یہ ہونا چاہئے کہ وہ نماز ختم ہونے پر اپنا ایک ہاتھ سینہ پر رکھیں ، مگر اس حدیث سے غیر مقلدین حالت قیام میں اور نماز کی حالت میں سینہ پر دونوں ہاتھوں کے باندھنے کی مشروعیت کو ثابت کرتے ہیں جس کا حدیث کے الفاظ میں کہیں دور دور تذکرہ نہیں ہے، حدیث کے الفاظ یہ ہیں آپ بھی دیکھ لیں اور ہر غیر مقلد دیکھ لے۔

قال رایت رسول الله  ﷺ ینصرف عن یمینہ وعن یسارہ ورایت یضع ھذہ علی صدرہ۔

یضع ھذہ علی صدرہ (میں نے دیکھا کہ آپ ﷺ دائیں بائیں رخ پھیرنے کے بعد اس کو اپنے سینہ پر رکھتے تھے) کا تعلق نماز ختم ہونے کے بعد کی حالت سے ہے کہ سلام پھیرنے کے بعد آپ کا ایک عمل یہ بھی تھا کہ کوئی ہاتھ آپ آپنے سینہ پر رکھتے تھے۔
لیکن اس حدیث کو غیر مقلدین محدثین علماء بھی سینہ پر دونوں ہاتھ رکھنے کی اپنی دلیل بناتے ہیں آپ اندازہ لگا ئے کہ جب آدمی تقلید کا راستہ چھوڑ اکر اپنی من مانی کرتا ہے تو وہ کیسی بے سر و پیر کی بات کرتا ہے، ایک اہم بات اور بھی ذہن آپ نشین کر لیں کہ اگر بالفرض و المحال یہ تسلیم بھی کر لیا جائے کہ سینہ پر ہاتھ باندھنے کی بات اگر کسی صحیح حدیث میں ہو بھی تو اس کا سنت ہونا ضروری نہیں ہے، اس لئے کہ سنت وہ عمل ہوتا ہے جس پر آنحضور ﷺ کا عمومی عمل ثابت ہو اور صحابہ کرام نے بھی اس کو اپنا معمول بنایا ہو، اور یہ بات کسی طرح ثابت نہیں ہے کہ سینہ پر ہاتھ باندھ کر نماز پڑھنا آنحضور ﷺ کا اکثری یا دائمی معمول تھا، اور یہی وجہ ہے کہ غیر مقلدین کی اس مسئلہ میں نقل کردہ کسی حدیث میں یہ نہیں ہے کہ کسی صحابی نے یہ کہا ہو کہ سنت یہ ہے کہ دونوں ہاتھ سینہ پر رکھے جائیں جب کہ سینہ کے نیچے ہاتھ باندھنے کے بارے میں حضرت علی خلیفہ راشد کا صاف ارشاد ہے کہ سنت یہ ہے کہ ہاتھ ناف کے نیچے باندھا جائے اور یہی وجہ ہے کہ صحابہ و تابعین میں ہاتھ زیر ناف باندھنے کا معمول تو رہا ہے مگر سینہ پر ہاتھ باندھنے کاکسی ایک صحابی کا بھی عمل منقول نہیں ہے۔

یقین جانئے کہ اگرنماز میں سینہ پر ہاتھ رکھنا بھی اسلاف کا معمول ہوتا تو اس بارے میں کوئی صحیح حدیث ہوتی اور یہ سنت ہوتا تو امام ترمذی اس کو ہرگز نظر انداز نہ کرتے، اور امام ابن قیم اس کو مکروہ نہ قرار دیتے، امام ابن قیم کا ارشاد ملاحظہ ہو، فرماتے ہیں: "دیکوہ ان یجعلاھا علی الصدر" یعنی سینہ پر ہاتھ رکھنا مکروہ ہے، اور حضرت علی کا یہ ارشاد کہ سنت یہی ہے کہ ناف کے نیچے ہاتھ باندھا جائے جس کو عبدالرحمن مبارکپوری صاحب نے از راہ تعصب ضعیف قرار دیا ہے۔ اس کے بارے میں امام ابن قیم فرماتے ہیں۔
صحیح حضرت علی کی بات ہے....والصحیح حدیث علی یعنی صحیح حدیث حضرت علی ہی والی ہے۔(بدائع الفوائد : ص۱۹ ج۱)
دلیل  نمبر ٥
نماز میں زیر ناف ہاتھ باندھنے کا جن کا مذہب ہے ان کی صریح صحیح دلیل یہ ہے جو مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے
حدیث نمبر ٩
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَضَعَ يَمِينَهُ عَلَى شِمَالِهِ فِي الصَّلَاةِ تَحْتَ السُّرَّةِ"۔
[مصنف ابن أبي شيبة » كتاب الصلاة » أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلاةِ » وَضْعُ الْيَمِينِ عَلَى الشِّمَالِ, رقم الحديث: 3959]

 حضرت وائلؓ فرماتے ہیں : میں نے رسول اکرم ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ نماز میں ناف کے نیچے ہاتھ باندھتے تھے۔

یہ روایت بالکل صحیح سند سے ہے، مگر غیر مقلدین علماء کو اس بارے میں بڑی مہارت حاصل ہے کہ وہ صحیح سند والی روایت کو بھی غلط قرار دے دیتے ہیں، چنانچہ مولانا عبدالرحمن مبارک پوری غیر مقلد اس صحیح سند والی روایت کو دیکھ کر اوپر نیچے ہونے لگے اور فرماتے ہیں:

میں کہتا ہوں کہ اس حدیث کی سند اگرچہ عمدہ ہے مگر تحت السرہ یعنی ناف کے نیچے والا کلمہ ثابت نہیں ہے۔ لکن فی ثبوت لفظ تحت السرة فی ھذا الحدیث نظر اقویا۔(ص ۴۱۲ )
اور پھر اس ثابت شدہ لفظ کو غیر ثابت کرنے کے لئے وہ سب کچھ کر کے رکھ دیا جس سے امانت و دیانت اور اصول پناہ مانگتے ہیں، اب ان کی اس تفصیل میں کون پڑے اور جان کھپائے، ہم تو ان غیر مقلدوں سے صرف یہ کہیں کہ اگر آپ کے یہاں ثابت نہیں ہے تو اس سے کیا فرق پڑتا ہے، صحابہ کرام اور تابعین عظام اور ائمہ فقہ و حدیث کا عمل یہ بتلاتا ہے کہ یہ لفظ ثابت ہے چاہے مصنف کے بقیہ اور نسخوں میں یہ لفظ ہو یا نہ ہو۔

قلمی نسخہ
علامہ شیخ ہاشم السندی رح نے اپنے رسالہ میں بیان کیا کہ
”میں نے یہ ذیادتی ( تحت السرۃ) 3 نسخوں میں پائی ہے۔ ایک وہ نسخہ جس کو شیخ قاسم محدث دیار مصریہ میں نقل کیا اور دوسرا وہ نسخہ جس کو شیخ اکرم النصر پوری نے نقل کیا اور تیسرا وہ نسخہ جس کو شیخ عبدالقادر مفتی مکہ معظمہ نے نقل کیا ہےٌ 
( ترصیع الدرۃ)
اسی بات کو ترصیع الدرۃ کے مقدمہ میں نعیم اشرف صاحب سے نقل کیا گیا ہے اور اس کا مقدمہ شیخ عبدالفتاح ابو غدہ نے بیان کیا ہے اور کتاب میں ترصیع الدرۃ کے پرانے مخطوطے کا وہ صفحہ بھی پیش کیا جہاں شیخ ہاشم السندی نے اس زیادتی کی تصدیق کی۔

قلمی نسخہ
نسخہ غیر مقلد شمس الحق عظیمی۔
کیومکہ ان کا مصنّف کا نسخہ، جس کو شیخ نظامانی نے لکھا ہے، اس میں بھی تحت السرہ کے الفاظ موجود ہے۔


No comments:

Post a Comment